بیماری کا بہانہ بنا کر بیرونِ ملک ڈانس کرتے ہوئے پائے جانے والی شخصیت کون ہیں؟

بیماری کا بہانہ بنا کر بیرونِ ملک ڈانس کرتے ہوئے پائے جانے والی شخصیت کون ہیں؟

اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستا ن نے گزشتہ روز چک شہزاد میں سابق صدر پرویز مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے اور انہیں رینجرز سکیورٹی مہیا کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔یہ حکم سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف عدالت میں چلنے والے این آر او کیس کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا جس میں پرویز مشرف کے وکیل نے ان کی سکیورٹی کی وجہ سے کیس میں ہونے والی تاخیر کا ذکر کیا۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پاکستان آئیں۔پرویز مشرف جہاں قدم رکھیں گے انہیں وہیں رینجرز سکیورٹی فراہم کی جا ئےگی۔اس لئے وہ پاکستان میں آ کر اپنا بیان قلمبند کروائیں اور اس کے بعد وہ چاہے گھومیں پھریں،ان سے ان کے اثاثوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے چک شہزاد میں پرویز مشرف کا فارم کھولنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ پاکستان آ کر اپنے ڈاکٹر سے علاج کروائیں اور باقاعدہ طور پر ان کے فارم ہاؤس کی صفائی بھی کروانے کا کہا گیا جس کی ذمہ داری نعیم بخاری کو دی گئی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا۔اسی لیے پرویز مشرف کی سکیورٹی کے لئے ہم تمام اقدام کرنے کے لیے تیار ہیں۔اس پر سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف بزدل نہیں ہیں۔اگر پاکستان میں آ کر ان کے کہیں بھی آنےجانےپر پا بندی نہ لگائی جائےتو وہ آنے کو تیار ہیں۔ان کے اثاثوں کی تفصیلات دیتے ہوئے وکیل اختر شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرویز مشرف کے کوئی اثاثے نہیں ہیں۔دبئی میں ان کے پاس ایک فلیٹ ہے جس کی قیمت 54لاکھ درہم ہے اور پاکستان میں موجود چک شہزاد والا فارم ہاؤس پرویز مشرف کی اہلیہ کے نام پر ہےجس کی قیمت 4 کروڑ 36 لاکھ ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف بیرون ملک جا کر ڈانس کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہاں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ وہ بیمار ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ان کی سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کے وکیل اختر شاہ کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف پاکستان کی عدالتوں کا بہت احترام کرتے ہیں،اگر انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی تو وہ آنے کے لئے تیار ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکیا اب پرویز مشرف کو بریگیڈ دے دی جائے۔ان کے رویے سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ عدالتوں کاواقعی احترام کرتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان میں واپس آکر یہا ں سی ایم ایچ کے ڈاکٹرز سے اپنا علاج کروائیں۔اور قانون سب کے لئے برابر ہوتا ہے تو ان کے لئے الگ سے قانون کیوں؟چیف جسٹس نے سابق صدر پرویز مشرف کی واپسی تک یہ این آر او کیس ایک ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے سماعت کا اختتام کیا۔