ہاکستانی سپر ماڈل ماڈل ایان علی ایک بار پھر کٹہرے میں طلب کر لی گئیں

ہاکستانی سپر ماڈل ماڈل ایان علی ایک بار پھر کٹہرے میں کیوں طلب کر لی گئیں؟

پاکستانی سپر ماڈل ایان علی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کردیا گیا۔ ماڈل ایان علی بار بار طلب کئے جانے کے باوجود گذشتہ آدھے برس سے عدالت میں کسی بھی سماعت کے لئے حاضر نہیں ہوئیں اور یہی بات اس وارنٹ کو جاری کرنے کی وجہ بنی ہے۔
عدالتی وارنٹ جاری کرنے کا مقصد ایان علی کی 6 اکتوبر کو عدالت میں حاضری ہے بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 2015 میں ماڈل ایان علی کو اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے سامان میں 506،800 ڈالر کی رقم برآمد ہونے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔پاکستانی قانون کے مطابق کوئی بھی سفر کے دوران 10000 ڈا لر سے زائد کی رقم اپنے ساتھ نہیں لے کے جاسکتا۔
ایان اس رقم کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی اجازت کے بغیر لے کر متحدہ عرب امارات جارہی تھیں۔ تاہم بعد میں انہیں جیل میں بھیج دیا گیا اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ( ای سی ایل) میں ڈال دیا گیا۔ مگر جیل سے رہائی کے بعد وہ دبئی روانہ ہوئیں تھیں اور ان کا نام بھی ای سی ایل سے نکال دیا گیا۔

ایان علی 30 جولائی 1993 کو دبئی میں پیدا ہوئیں -2010 میں سولہ سال کی عمر میں انہوں نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا۔ مختصر عرصہ میں ہی ان کا نام پاکستان کی ابھرتی ہوئی ماڈلز کی لسٹ میں شامل ہوگیا۔ وہ چار بار لکس سٹائل ایوارڈز کے لئے نام زد ہوئیں۔
انہوں نے نامی گرامی برینڈز جیسا کہ گل احمد، بریزے، حسن شہریار اور کارما کے ساتھ بھی کام کیا۔
2012 میں ایان نے بہترین ماڈل ہونے کاا یوارڈ اپنے نام کیا۔ مارچ 2015 میں انہیں منی لانڈرنگ کے کیس میں گرفتا ر کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران انہوں نے بتایا کہ منی لانڈرنگ میں پاکستان کے کئی سیاست دان اور دوسری ماڈلز بھی ملوث ہیں۔ جولائی 2015 میں انہیں ضمانت پررہا کردیا گیا۔
منی لانڈرنگ سے مراد غیر قانونی اور نامعلوم ذرائع سے حاصل کردہ رقم کو ( جسے کالا دھن بھی کہہ سکتے ہیں) بیرونِ ملک بینکوں میں رکھوانا ہے تاکہ ان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کی جاسکے۔ ایسا کرنا بلاشبہ ایک جرم ہے اور ایسے مجرم سے نامعلوم ذرائع
سے بنائی گئی رقم کے بارے میں باز پرس کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ یہ در حقیقت بدعنوانی کی ہی ایک صورت ہے جس سے ملک و قوم کا نام خراب ہوتا ہے -یہ بھی عین ممکن ہے کہ کالا دھن کسی حق دارکا حق مار کر بنایا گیا ہو جس سے معاشرے میں نفرت و دشمنی کے جذبات کو بھی فروغ ملتا ہے ۔ لہٰذا اس جرم کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام کرنا بے حد ضروری ہے۔ پاکستانی عدلیہ اللہ کے فضل سے اپنی تمام تر ذمہ داریوں کی بھر پو ر پاس داری کرتی دکھائی دے رہی ہے۔