سورج اور چاند گرہن کیوں لگتے ہیں ان کی حکمت کیا ہے؟

سورج اور چاند گرہن کیوں لگتے ہیں ان کی حکمت کیا ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسوف و خسوف اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں ،اس کا مقصد بندوں کو خوف دلانا ہے ، پس جب تم اسے دیکھو تو نماز پڑھو–
خسوف کا اطلاق سورج اور چاند دونوں کے گرہن پر ہوا ہے ، لیکن ائمہ لغت نے عام طور پر سورج گرہن کے لئے “کسوف “ اور چاند گرہن کے لئے”خسوف “ کے استعمال کو ترجیح دی ہے۔ )بقول علامہ سیوطی دنیا میں بہت سے لوگ کواکب و نجوم کی پرستش کرتے ہیں ، اس لئے اللہ نے سورج و چاند جیسے دو بڑے نورانی اجسام پہ کسوف و خسوف طاری کرنے کا فیصلہ فرمایا تاکہ اپنی قدرت کاملہ دکھلا کر ان کی پوجا کرنے والی اقوام کی غلطی ظاہر کرے (اوجز المسالک 274/2 ۔انعام الباری شرح بخاری ) ۔عربوں میں مشہور تھا کہ سوچ گرہن اور چاند گرہن تب لگتا ہے جب زمین پر کوئی بہت بڑا ظلم ہو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو وہم قرار دیا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
سورج اور چاند کو کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھا کرو۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اگر سورج وچاند دونوں کے درمیان میں زمین آ جائے تو چاند گرہن ہوتا ہے اور اگر سورج اور زمین کے درمیان میں چاند آ جائے تو سورج گرہن ہوتا ہے، جو کہ انسان کیلئےیے قیامت کے دن کا معمولی سا منظر پیش کرتا ہے کہ کس طرح سورج کی بے پناہ روشنی کو اللہ تعالی یک لخت میں ہی گل فرما سکتا ہے۔مذہب اسلام میں ایسے موقع سے توہمات وخرافات کے شکار ہونے یا تماشہ بینی کی ہر گز گنجائش نہیں رکھی گئی ہے۔
رسول ﷺنے فرمایاسورج اور چاند کسی کے مرنے سے گرہن نہیںہوتے.یہ تو قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں.جب انھیں گرھن ہوتے دیکھو تو نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہو۔آپ صلى الله علىه وسلم نے فرمایاچاند اور سورج گرھن آثار قدرت ہیں-
یہ كسى كے مرنے یا جینے (یا کسی اور وجہ) سے نمودار نہیںہوتے بلکہ اللہ اپنے بندو ں کو عبرت دلانے کے لئے ظاهر فرماتا ہے.اگر تم ایسے آثار ديكھو تو جلد از جلد دعا,استغفار اورياد الٰہی (اللہ کا ذكر)كى طرف رجوع کرو۔ایک اور حديث كے الفاظ میں تكبيريں (اللہ اکبر) كہنے اور صدقہ کرنے کا بھی ذكر ہے۔
در حقیقت سور ج و چاند گرہن کو لگنا اللہ کے قادر مطلق ہونے کا ایک شان دار مظاہرہ ہے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اللہ ہی کے دم سے ساری کائنات چلتی ہے اور اس کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا ۔ اسی لئے انسانوں کو غوروفکر کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے کیوں کہ جب کوئی شخص اپناذہن دوڑاتا ہے تو یہ حقیقت اس پر عیاں ہوجاتی ہے کہ ساری بادشاہی صرف و صرف اللہ ہی کی ہے۔