جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ روحانی صفائی کیوں اور کس حد تک ضروری ہے؟

جسمانی صفائی کے ساتھ ساتھ روحانی صفائی کیوں اور کس حد تک ضروری ہے؟

حضرت محمد ﷺ کا ارشاد ہے کہ
الطہور شطرالایمان
”صفائی ایمان کا حصہ ہے ۔”
ایمان کی تکمیل کے لیے صفائی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور صفائی انسان میں فرشتوں کی معصومیت ،شبنم کی شادابی، پھولوں کا تبسم ،چاند کا حسن، عقاب کی نظر، شاہین کی پرواز، چیتے کا جگر اور حضرت محمد ﷺ کے اخلاق کریمانہ کی جھلک پیدا کرتی ہے۔
صفائی کا یہ جوہر اگر کسی قوم کے افراد میں پیدا ہو جائے تو اس قوم کے افراد علمی لحاظ سے افضل اور سرگرم ہو جاتے ہیں ، اخلاقی لحاظ سے بلند مرتبہ اور محنت و مشقت کے عادی بن جاتے ہیں اورجوش کردار سے ان کے سینے معمور ہو جاتے ہیں۔اوربالاخر صفائی انسان کو پستی سے اٹھاکر عروج کے تخت پر جلوہ گر کرتی ہے۔
ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی زیادہ ضروری ہے اگر دل میں نفرت کا لاوا پک رہا ہو ،تعصب کا دھواں اور دشمنی کی آگ سلگ رہی ہو تو ظاہری صفائی کے باوجود دنیا جہنم بن جائے ۔صفائی کا مطلب صاف ستھرا رہنا ہے، ہمیں روحانی صفائی کے ساتھ باطنی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ہمارا جسم اللہ کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے اور ایک تندرست جسم صحت مند تب ہی رہ سکتا ہے جب تک اس کی مناسب صفائی کی جائے۔اس لیے جسم کو صاف رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ جہاں صفائی ہوتی ہے وہاں سے بیماریاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں اور جہاں گندگی ہو گی وہاں مچھر اور جراثیم آتے ہیں اس لیے صفائی بہت ضروری ہے کیونکہ صحت مند زندگی کے لیے صفائی بہت اہمیت کی حامل ہے۔
صفائی عجب چیز دنیا میں ہے
صفائی سے بہتر نہیں کوئی شے
صحت کو برقرار رکھنے کے لیے غسل بہت ضروری عنصر ہے یہ صفائی کا بنیادی عمل ہے اس لیے ہمیں غسل کا معمول بنالینا چاہیے اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی ۔اسلام میں ظاہری صفائی کے ساتھ من کی صفائی بھی اہم ہے ہمیں دل سے حسد، تکبر، لالچ ،غرور اور کینہ کا نام و نشان مٹا دینا چاہیے۔اسی طرح اپنی صفائی کے ساتھ گھر محلہ شہر اور ملک کی صفائی بہت ضروری ہیں کیونکہ اگر یہ سب صاف ستھرا ہو گا تو ایک صاف ستھرا معاشرہ جنم لیتا ہیں۔
ایک ہسپانوی کہاوت کے مطابق ”غربت اور صفائی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں”
اپنے گھر اور گردونواح کو صاف رکھنے کا انحصار ہماری اپنی سوچ پر ہے جو ہمیں صفائی پر اکساتی ہے۔ درحقیقت گھر کی صفائی میں خاندان اہم ہےاور گردونواح میں محلہ ،شہر شامل ہے آج کل جگہ جگہ کوڑا کرکٹ اور گندگی کےڈھیر ہیں جہاں مکھیاں مچھر لال بیگ اور بہت سے کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں جو بیماریاں پھیلاتے ہیں جو عوام کی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔
ہمارا دین اسلام بھی ہمیں صاف ستھرا رہنے کی ہدایت دیتا ہےاور صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے ۔صفائی اسلام کا بہترین عمل ہے نماز جیسے بنیادی اسلامی رکن کی ادائیگی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمارا لباس ،جسم اور وہ جگہ جہاں پر ہم نماز پڑھیں پاک صاف نہ ہو ۔اس لئے ہمیں اپنا آپ اور اپنا ماحول صاف رکھنا چاہیئے۔