موت کے بعد انسانی جسم اور ہڈیوں کے ساتھ کیا بیتتی ہے؟

موت کے بعد انسانی جسم اور ہڈیوں کے ساتھ کیا بیتتی ہے؟

ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ یہ قرآن کی آیت ہے جس کے مطابق بقا صرف اللہ کی ذات کو ہے جب کہ ہر مخلوق کو آج نہیں تو کل فنا ہو جانا ہے۔ پھر ہم اپنی آخرت کی پرواہ کیوں نہیں کرتے؟ مسلمانوں پر دن میں پانچ بار نمار فرض کی گئی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو نماز میں ہر ہر حالت ہمیں یاددلاتی ہے کہ ہم نے عن قریب فنا ہو جانا ہے۔ آئیے نماز کی ہر حالت کا مشاہدہ کرتے ہیں:
نماز کی حالت میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے کیوں کہ یہودیوں کی عبادت بند آنکھوں سے ہوتی ہےنماز میں حالتِ قیام میں تو نگاہیں سجدے کی جگہ رکھنی چاہیئں تاکہ احساس ہو کہ ایک دن ہمیں زمین میں دفن ہونا ہے جب رکوع میں جائیں تو نگاہیں پاؤں پر ہو نی چاہیئں تا کہ یاد رہے کہ ہماری جان پاؤں سے نکلنا شروع ہوتی ہے ۔جب سجدے میں جائیں تو ناک کی سمت میں دیکھنا چاہیئے کیوں کہ مرنے کے بعد سب سے پہلے ناک کے حصے میں تبدیلی آتی ہے۔
اور جب قعدے میں بیٹھیں تو نظریں دامن {جھولی} کی جگہ ہونی چاہئیے تاکہ یہ بھی احساس ہوجائے کہ ہمارا دامن اب بھی خالی ہے-
تدفین کے ایک دن بعد یعنی موت کے ٹھیک چوبیس گھنٹے بعد ہی { آنتوں میں ایک ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل شروع ہوجاتا ہے جو مردے کے پاخانے کے راستے باہر کی طرف نکلنا شروع ہوتے ہیں ساتھ ہی ناقابل برداشت بدبو پھیلانا شروع کرتے ہیں جو دراصل اپنے ہم پیشہ حشرات الارض کیڑے مکوڑے اور سب سے اہم قبر بچھو کو مردے کا گوشت کھانے کے لئے مدعو کرنے کا اعلان ہوتا ہے-
تدفین کے تین دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہوجاتی ہے چھ دن بعد ناخن گرنا شروع ہوجاتے ہیں جب کہ نو دن کے بعد بال گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور پیٹ پھولنا شروع ہوجاتے ہیں- سترہ دن بعد پیٹ پھٹ جاتاہے اور دیگر اجزاء باہر نکل آتے ہیں-
ساٹھ دن بعد مردے کے جسم سے سارے کا ساراگوشت ختم ہوجاتاہے-
نوے {90} دن کے بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجاتی ہیں ۔۔

جب کہ ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں اور دوسال بعد ہڈیوں کا وجود بھی ختم ہوجاتا ہے ۔۔۔
غرور، تکبر، نفرت، ، بغض، دشمنی، دولت کی ہوسرنجشیں، کینہ ، حسد، جلن، شہرت عزت، نام ونمود عہدہ یہ سب کہاں جاتا ہے؟ پتہ نہیں ۔شاید دنیا ہی میں رہ جاتا ہے ۔ تاہم انسان کے پوری زندگی میں کئے جانے والے اعمال ضرور اس کے ساتھ جاتے ہیں اور ان ہی اعمال کی بنا ء پر اس کا حساب کتاب بھی لیا جائے گا نہ کہ یہ پوچھا جائے گا کہ تمھارے بینک میں کتنا بیلنس ہے؟ تمہاری گاڑی کا ماڈل کون ساہے؟ تم کپڑے کس برانڈ کے پہنتے تھے؟ وقت ابھی بھی ہمارے ہاتھ میں ہی ہے لہٰذا اس کا درست استعمال کرنا ہمارے لئے آخرت میں سود مند ہو سکتا ہے۔
اللہ سبحان تعالی ہم سب کو کہنے سننے اور پڑھنے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین یا رب العالمین