نبی کریم پر درود اور سلام پڑھنا،اہم ترین عبادت اور قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔

نبی کریم پر درود اور سلام پڑھنا،اہم ترین عبادت اور قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔

نبی کریم ﷺکا فرمان ہے کہ
”جب تم مجھ پر درود بھیجو تو نہایت خوبصورت انداز میں بھیجا کرو،تمہیں نہیں معلوم تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔”
ایک اور جگہ نبی پاکﷺ نے فرمایا ”جب میرا بندہ مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔”
درود شریف کی یقینی قبولیت کے لیے انسان کی سوچ، نظر، قلب اور ذات کا پاک ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ جب درود پاک ایسی زبان سے ادا کیا جائے جو کہ ریاکاری، حسد، بخل، غرور اور دیگر باطنی برائیوں سے پاک ہو تو سلامتی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں قبول کیا جاتا ہے۔اس لیے دل کو ایسی تمام برائیوں سے پاک ہونا چاہیئے تا کہ درود پاک کی لامحدود برکات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
سورہ احزاب میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی کریم ﷺپر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجا کرو۔”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا،”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے،اللہ رب لعالمین اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔”
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ ”جب تک مجھ پر درود نہ پڑھا جائے تب تک کوئی دعا قبول نہیں کی جاتی۔” اس لیے ہماری دعاؤں کی قبولیت کے حوالے سے نبی پاک پر درود پڑھنا بے حد ضروری ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ”جب تک نبی پاک ﷺپر درود اور سلام نہ پڑھا جائے،ہماری دعا زمیں اور آسمان کے درمیان لٹکتی رہتی ہے۔”
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے ،حضرت محمد ﷺنے فرمایا کہ ”جس مجلس میں اللہ کا ذکر کیا جائے نہ نبی کریم ﷺپر درود پڑھا جائے وہ مجلس قیامت کے روز ان لوگوں کے لیے قابل حسرت ہوگی خواہ وہ نیک اعمال کے بدلے جنت میں ہی کیوں نہ چلے جائیں۔”
اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک جگہ روایت ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ ”جو شخص مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا،اس نے جنت کا راستہ کھو دیا۔”
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺنے فرمایا ”جس شخص کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درودوسلام نہ پڑھے وہ بخیل ہے۔”
رسول کریم ﷺنے فرمایا ”جب تک کوئی مسلمان مجھ پر درود شریف پڑھتا رہتا ہے اللہ کے فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں،اب جو چاہے کم پڑھے اور جو چاہے زیادہ پڑھے۔”
حضرت ابی بن کعب رضی اﷲتعالی عنہ نے رسول کریم سے عرض کیا یا رسول اﷲ میں کثرت سے درود شریف پڑھتا ہوں ، اپنی د عا میں سے کتنا وقت درود شریف کیلئے وقف کروں ؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا ، جتنا تو چاہے ،میں نےعرض کیا ، ایک چو تھائی صحیح ہے ؟آپ ﷺنے فرمایا جتنا تو چاہے ، میں نےعرض کیا نصف وقت مقرر کروں ؟آپ ﷺنے فرمایا جتنا تو چاہے ، لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لئے اچھا ہے۔ میں نے عرض کیا دو تہائی مقرر کروں ؟ آ پ ﷺنے فرمایا ! جتنا تو چاہے ، لیکن اگر زیادہ کرے تو تیرے ہی لئے بہتر ہے ۔ میں نے عرض کیا ،میں اپنی ساری د عا کا وقت درود شریف کیلئے وقف کرتا ہوں ۔ اس پر رسول اﷲ ﷺنے فرمایا یہ تیرے سارے دکھوں اور غموں کیلئے کافی ہو گا اور تیرے گناہوں کی بخشش کا باعث ہو گا۔
ان تمام احادیث سے درود شریف کی اہمیت اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔