ڈالر کی سطح اور کاروباری مسائل

ڈالر کی سطح پاکستان کی مارکٹ میں اب تک برقرار اور اس کی وجہ سے کاروباری لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی کمی کے انتظار میں کاروباری لوگوں کو بہت نقصان کا سامنا کر تے دیکھا جا رہا ہے لیکن ان تمام مسائل کے ہونے سے عام عوام پس رہے ہیں اور حکومت ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے تماشا دیکھ رہی ہے۔
وزیر خزانہ اسد عمرکے مطابق پاکستان کی موجودہ مالیاتی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لئے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ممکن کرنے کے لئے ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔
اس کے مترادف مالی معاملات کی شفافیت ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام اداروں کو پوری ایمانداری کے سا تھ کام کرنا ہوگا، ایک مہینے پہلے کاروبار میں عوام کے لئے یہ بہت مشکل تھا کہ وہ خریدنے یا آرڈر کرنے کے لۓ ٹرانزیکشن کرسکتے ہیں لیکن اتنی زیادہ ڈالر کی قیمت میں اضافے نے ان سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔
آج کے تازہ ترین ڈالر کے ریٹ جو کہ 135 پاکستانی روپے ہے یہ اپنی جگہ ایک دیوار بن کے کاروبار میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے، آخری کے سات دنوں میں ڈالر کی قیمت میں صرف اور صرف 2 روپے کی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اس بات سے زیادہ تر تاجر حضرات نا خشوگوار نظر آتے ہیں۔
ڈالر کی قیمتوں میں اگر زیادہ کمی نہی آئی تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو ہونے والا ہے کیونکہ کاروبار کو مستحکم تور پر چلانے کے لیے تمام چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرنا یقینی ہو جائے گا اور عام عوام کی مہانہ آمدن ان کے لیے ایک مسلہ بن کے رہ جائے گی۔