پاکستان میں معاشی بحران کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

پاکستان میں معاشی بحران کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

پاکستان پچھلے کچھ سالوں میں شدید معاشی بحران کا شکار رہا ہے اور آئندہ کچھ سالوں میں یہ بحران مزید بڑھ جائے گا ۔اگر حکومت نے اس پر قابو نہ پایا تو پاکستان معاشی طور پر کمزور ہو جائے گا اور اس کا سارا بوجھ حکومت عوام پرڈالے گی اور آج تک وہی کر بھی رہی ہے ۔تاہم اس پر وقتی طور پر قابو پانے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے کچھ دنوں پہلے معاشی ماہرین سے تبادلہ خیال کیا اور ان سے پاکستان کی معیشت بہتر بنانے کے لیے مشورے لیے اور ان میں سے بہت سے ماہرین نے عمران خان کو آئی ایم ایف سے قرض لینے کا مشورہ دیا جبکہ ڈاکٹر اشفاق حسن وہ واحد ماہر معاشیات ہے جس نے اس فیصلہ کی مخالفت کی کیونکہ اس کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے نتیجے میں عوام ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس ہزار گھروں سے محروم ہو جائے گی ۔اور اس کے علاوہ حکومتی اخراجات میں کمی اور عوام پر مزید ٹیکس لگانے جیسے مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے ۔
وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش رہے گی کہ اس قرض کا بوجھ چھوٹے اور کمزور طبقوں پر نہ پڑے کیونکہ یہ عوام اور حکومت کے لیے مشکل فیصلہ اور چیلنج ہے ،تاہم معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے عوام کو سخت فیصلے کرنے ہیں اور عوام نے ہمیشہ متحد ہو کر مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کیا ہیں ۔
دو روز قبل لاہور میں پریس کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کا اعلان کیا اور اس کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر روا ں ہفتہ منگل کے روز ورلڈ بینک کے اجلاس میں آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کریں گے جبکہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں بہتری کی صورت میں قرض دیا جائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان کے اس اعلان پر انٹر نیٹ صارفین اور سیاسی لوگوں نے بہت طنزیہ اور تنقیدی موضوع بنایا ہوا ہے کیونکہ انتخابات سے پہلے اور بعد میں پی ٹی آئی یہی کہتی رہی کہ آئی ایم ایف سے قرض کسی صورت نہیں لیا جائے گا اور اب اچانک یہ اعلان کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے اس اعلان پر سوشل میڈ یا پر” میں آئی ایم ایف نہیں جاؤں گی ”کے نام سے ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے ۔سابق وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم صاحب آپ کی کم علمی ،جاہلانہ گفتگو اور اقتدار کی اندھی ہوس آپ کا تعاقب کر رہی ہے ۔سابق وزیر اعلی شہباز شریف نے کہا ہے کہ قرض لے کر حکومت چلانا ایسا ہے جیسےڈسپرین سے کینسر کا علاج کرنا ۔احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکامتی بھینسوں اور گاڑیوں کی نیلامی سے یہ قرض نہ ادا ہو سکا تو اب آئی ایم ایف کے دروازے پر پہنچ گئے۔
اس اعلان پر کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ”مدر آف یوٹرن” ہے۔ اور حکومت سے غیر ترقیاتی اخراجات اور کابینہ کم نہیں ہوئی ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہ ہوا اور آئی ایم ایف کے پاس دوڑ لگا دی ۔