ڈاکٹر ذاکر نائیک کی بھارت میں موجود جائیدادیں ضبط

ڈاکٹر ذاکر نائیک کی بھارت میں موجود جائیدادیں ضبط

بھارتی حکومت نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی جائیدادیں ضبط کر لیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک آج کل ملائشیا میں مقیم ہیں جو کہ بھارتی مبلغِ اسلام رہ چکے ہیں۔ انہوں نے غیر مذاہب کی کتابوں کے ذریعے ہی اللہ کی وحدانیت ثابت کی جسے بھارتی انتہا پسندوں نے برداشت نہ کیا۔
ڈاکٹر ذاکر اٹھارہ اکتوبر 1965 کو بھارتی شہر ممبئی میں پیدا ہوئے ۔ مبلغ بننے سے قبل وہ ایک معالج کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ فی الحال بھارت، بنگلہ دیش، کینیڈا اور برطانیہ میں ان کی تبلیغ پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کشن چند چیلارم کالج اور ٹوپی والا نیشنل میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کی۔ 1991 میں انہوں نے اسلامی دعوت دینے کا آغاز کیا اور اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ 1987 میں جنوبی افریقہ کے ایک اسلامی مبلغ احمد دیدت سے ملاقات نے ڈاکٹر ذاکر کو اسلامی تبلیغ کے لئے قائل کیا۔ ڈاکٹر ذاکر نے ممبئی میں اسلامک انٹرنیشنل سکول اور یونائٹیڈ اسلامک ایڈ بھی قائم کیا جس کا مقصد غریب و مستحق نوجوان مسلمانوں کو سکالر شپ دینا ہے۔ 2017 میں ڈاکٹر ذاکر کو سعودی عرب کی طرف سے رہائشی ہونے کا حق حاصل ہوگیا۔ اسی سال بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے انہیں مجر م قرار دے کر ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔
سترہویں دبئی انٹرنیشنل ہولی قرآن ایوارڈ کی طرف سے ڈاکٹر ذاکر کو 2013 کی اسلامی شخصیت قرار دیا گیا۔ اس کے بعد 2015 میں انہیں اسلامی خدامت انجام دینے کے باعث کنگ سروس انٹرنیشنل پرائز سے بھی نوازا گیا۔ مزید براں 2009 سے 2014 یعنی مسلسل پانچ سال کے ہر ایڈیشن میں ان کا نام دنیا کی پانچ سو پر اثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا۔
پردے کے بارے میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایک مسلمان خاتون حجاب کرے یا نقاب کرے تو اسے محکومی کی علامت قرار دے دیا جاتا ہے تاہم اگر ایک عیسا ئی راہبہ بھی ایسا ہی کرے تو اسے معزز سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اسلام کو جبر والا دین سمجھتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ ایک سچے مسلمان کو رحم کرنے والا، بردبار، ایمان دار اور منصف ہونا چاہیئے۔
ڈاکٹر ذاکر کو متعدد بار جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں۔
2016میں وشوا ہندو پریشاد کی راہنما سادھوی پراچی نے ڈاکٹر ذاکر کا سر قلم کرنے والے کے لئے بھارتی پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔
یہ بھارتی انتہا پسندی کی ایک بہت بڑی اور افسو س ناک مثال ہے۔ ہندوؤں نے کبھی بھی مسلمانوں کو برداشت نہیں کیا تو وہ ایک مبلغ اسلام کو کس طرح برداشت کر سکتے ہیں؟ ان میں اتنا ظرف ہی نہیں نہ ہی ان کی ناقص عقل اسلام کے سادہ اور آسان اصولوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کئی بار غیر مذہبی افراد کو ان کے سوالوں کے جواب دے کر لاجواب کردیا جس کے باعث کئی لوگ ان کے ہاتھ پر اسلام قبول بھی کر چکے ہیں۔