شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد اب پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کیامسلم لیگ ن جیتنے والی ہے؟

نینب کی کاروائی شہباز شریف گرفتار! کیا اب پنجاب میں ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن جیتنے والی ہے؟

نیشنل اکاؤنٹایبیلٹی بیورو (نیب) نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کولاہور میں ان کے دفتر سے حراست میں لے لیا ہے۔ اس گرفتاری کی وجہ آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل ہے۔
اپوزیشن جماعت کے راہنما شہباز شریف پر آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کی مد میں چودہ عرب روپے کی کرپشن کا الزام عائد ہے۔ ہفتہ کوعدالت میں ان کا ریمانڈ ہو گا۔ عدالت میں ان کی پیشی سے پہلے انہیں ایک انتہائی محفوظ جیل میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو ایڈمن جج نجم الحسنکے سامنے پیش کیا جائے گا جب کہ شہباز شریف کو وکیل حسین امجد پرویز جج صاحب کے سامنے پیش کریں گے۔ نیب کے وکیلِ استغاثہ وارث علی جنجوعہ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم عدالت سے شہباز شریف کے مزید چودہ دن کے ریمانڈ کی درخواست بھی کریں گے۔
نیب نے شہباز شریف کو صاف پانی سکیم کے بارے میں پوچھ گچھ کے لئے بھی طلب کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت شہباز شریف کو ان کے مخصوص سیکیورٹی مہیا کرنے والوں سے علیحدہ کردیا گیا۔
تاہم مسلم لیگ ن کے حامیوں نے احتجاجاً نیب کے دفتر کے سامنے اکٹھا ہونا بھی شروع کردیا ہے۔
شہباز شریف کی گرفتاری کےموقع پر پاکستان کے وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اس فیصلے میں غیر جانبدار ہے اور یہ کہ نیب ایک آزاد ادارہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اس معاملے میں غیر جانبدار تو ہے مگر ہم ان تمام لوگوں کا احتساب چاہتے ہیں جنہوں نے اس ملک کا پیسہ لوٹا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے لوگ جن کا بڑے بڑے کیسز میں نام، انہیں بھی حراست میں لیا جانا چاہیئے۔ انہوں مزید یہ بھی کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں چھپن ارب کی کرپشن ہوئی ہے۔
اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی( پی پی پی) کے راہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری پارلیمنٹ کی توہین ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد پی پی پی کے چئیر مین بلاول بھٹو زرداری سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہوں گا۔ پہلے کیس کو پورا پڑھوں گا۔
اپوزیشن لیڈر اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے گرفتاری پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل این کے راہنماؤں کو ہر بار انتخابات سے قبل گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
اس معاملے پرمسلم لیگ ن کی صدر مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نیب نے شہباز شریف کو پنجاب صاف پانی سکیم کیس میں طلب کیا لیکن گرفتار آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں کرپشن کے کیس کے لئے کر لیا۔ اس بارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہباز شریف کی انتخابات سے دس دن قبل گرفتاری کا مقصد انتخابات پر اثر ڈالنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پارٹی راہنما لاہور میں ایک ملاقات کرنے والے ہیں جس میں وہ مستقبل کا لائحہ عمل بنائیں گے۔
دوسری طرف ایم کیو ایم کے سابق رکن علی رضا عابدی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی گرفتاری کے باعث اب پنجاب میں مسلم لیگ ن باآسانی ضمنی انتخابات جیت جائے گی۔