ڈائیریا (اسہال) کی وجوہات کیا ہیں اور غذا سے علا ج کیسے ممکن ہے؟

ڈائیریا (اسہال) کی وجوہات کیا ہیں اور غذا سے علا ج کیسے ممکن ہے؟

تعارف

اکثر ہسپتال میں مریضوں کو کسی بھی بیماری کے نتیجہ میں اسہال یعنی ڈائیریا کا مسئلہ بھی ہو جاتا ہے جس  سے مریض کو زیادہ کمزوری ہو جاتی ہے۔ کمزوری کی اہم وجہ اسہال کی وجہ سے جسم سے فضلہ کے صورت میں نکلنے والا اضافی پانی اور ضروری حیاتیات و معدنیات ہوتی ہیں۔ شدید اسہال سے جسم میں پانی کی شدید قلت بھی واقع ہوجاتی ہے جسے فوری بحال کرنا بہت ضروری ہوتا ہے وگرنہ جان جانے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق انسان کھانے کے بغیر سات دن تک جب کہ پانی کے بغیر صرف تین دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔

 اسہال کے دوران ڈاکٹروں کا مشورہ 
اسی وجہ سے اسہال کے دوران معالج او-آر-ایس (اورل ری ہائیڈریشن سلوشن) پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس میں موجود اجزاء جسم سے ضائع شدہ پانی اور دوسرے غذائی اجزا کی بھرپائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں اسہال کے دوران ہلکی پھلکی غذا کھانی چاہیئے۔

ماہرین کا مشورہ

ماہرین اس دوران صرف چار چیزیں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں جسے بریٹ ڈائیٹ کہتے ہیں۔ اس ڈائیٹ میں کیلا، سفید چاول، سیب کی چٹنی اور ٹوسٹ شامل ہیں۔ بریٹ ڈائیٹ کا مشورہ دینے کی اہم وجہ ان غذاؤں میں موجود فائبر کی قلیل مقدار ہے جو کہ دورانِ اسہال ضروری ہوتی ہے۔ در اصل خوراک میں فائبر کی زیادتی اسہال کے مزید بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لئے ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا مناسب ہے جن میں فائبر کم سے کم مقدار میں موجود ہو۔

اسہال کی غذا
کم فائبر والی غذا کی وجہ سے معدہ کو غذا کو ہضم کرنے کے لئے زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی یعنی یہ نسبتاً آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے۔ بصورتِ دیگر اگر آپ فائبر سے بھر پور غذا کھائیں تو یہ زیادہ دیر تک معدہ میں پڑی رہتی ہے اور اسے ہضم کرنے کے لئے معدہ کو زیادہ کام بھی کرنا پڑتا ہے جب کہ دورانِ اسہال معدہ کو زیادہ کام کروانا آپ کو مزید مہنگا پڑسکتا ہے۔

اسہال کے دوران روک تھام
اسہال سے بچنے کے لئے ہمیشہ صاف ستھرے ہاتھوں سے کھانا کھائیں۔ نیز کھانا صاف طریقہ سے پکا ہو اور صاف برتنوں میں ہی پیش کیا جائے کیونکہ اسہال کی ایک بڑی وجہ گندگی کے جراثیموں کی معدہ تک رسائی بھی ہے جو کہ گندے ہاتھوں یا گندے برتن کے استعمال سے ممکن ہے۔ اسی لئے صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔

اسہال سے بچاؤ
لہٰذا کھانا ہمیشہ حفظانِ صحت کے اصولوں کو مدِ نظر رکھ کر تیا رکیا جانا چاہیئے۔ اگر آپ اکثر و بیشتر باہر سے کھانا کھاتے ہیں تو یقیناً آپ معدے کے مسائل کا شکار بھی رہتے ہوں گے۔ تاہم بار بار معدہ کی خربی آپ کی زندگی کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ اسی لئے احتیاط علاج سے بہتر ہے اور آپ کی صحت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اسہال سے خود بھی بچیں اور اپنے گردونواح میں بھی دوسروں کو اس بارے میں آگاہ کریں۔