احتیاط کیجئے!۔۔۔۔۔۔کولڈ ڈرنکس جان لیواثابت ہو سکتی ہیں

احتیاط کیجئے!۔۔۔۔۔۔اگر آپ یہ کولڈ ڈرنکس استمعال کر رہےہیں تویہ جان لیواثابت ہو سکتی ہیں

موسم گرما میں ٹھنڈے مشروبات کا استعمال جسم کے درجہ حرارت اور پانی کی کمی کو پورا کرنے کےلئے بہت ضروری ہے لیکن جن مشروبات کو ہم کولڈ ڈرنکس کے نام پر استعمال کر رہے ہیں وہ صرف زبان کا ذائقہ اور جزوقتی راحت و سکون کا احساس تو دلاتے ہیں لیکن جسمانی اعضاء ونظام انہضام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ مشہور و معروف کمپنی کے یہ برانڈز نظام انہضام میں بگاڑ پیدا کرنے کے ساتھ کئی جان لیوا بیماریوں کا مو جد بن رہے ہیں جن کے بارے میں عام آدمی کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ انرجی اور کولڈ ڈرنکس کی تیاری میں جن نقصان دہ چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہےان میں کیفین، ایتھالی لین ، فاسفورک ایسڈ، سوڈیم بینزوئیٹ ، گیسز میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسے اجزاء شامل ہیں۔انکو جدید ٹیکنالوجی اور مشینوں کی مدد سے تحلیل کرکے تیار کیا جار ہا ہے ۔یہ اجزاء کس طرح صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں،آئیے دیکھتے ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ انتہائی زہریلی گیس ہے ۔ ہوا میں موجود آکسیجن ہم جسم میں لے کر جاتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جوخون کے ایک فضلے کی مانند ہے واپس سانس کے ذریعے پھپھڑوں سے باہر نکالتے ہیں۔ انسان ان مشروب کے ذریعے سے اس مضرِصحت گیس کو اپنے معدہ میں جذب کر رہا ہے ظاہر ہے جس سے نظام انہضام، معدہ اور آنت کے ساتھ دیگر اعضاء کونقصان پہنچے گا۔ فاسفورک ایسڈ ایک تیزابی مادہ ہے جو انسانی جسم سے ہڈیوں اور دانتوں میں شامل کیلشیئم کو خارج کر کے ہڈیوں کی کمزوری اور شکست کا سبب بنتا ہے۔ انسانی جسم میں فاسفورس اور کیلشیئم کا قدرتی طور پر توازن موجود ہوتا ہے۔ اگر انرجی ڈرنکس میں فاسفورس ایسڈ کی مقدار کیلشیئم سے زیادہ ہو گئی تو ہڈیوں میں کمزوری بڑھنے لگتی ہے۔
عام طور مشاہدے میں آیا ہے کہ لوگ معدے کی تیزابی، گیس اور پیٹ کے دردکو کم کرنے کے لئے ان ڈرنکس کاہر کھانے کے بعد وقتاً فوقتاً استعمال کرتے ہیں ۔انرجی و کولڈ ڈرنکس میں تیزابی ایسڈ معدے میں جا کر گیس بنانےکا باعث بنتا ہے ۔ایک ریسریچ رپورٹ کے مطابق اگر ہمارے پیٹ میں پہلے ہی گیس بھری ہو تو ان ڈرنکس سے جسم کا حصہ بننے والی اضافی گیسوں کے ٹکراؤ سے صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی جس کا اثر دل و دماغ کی شریانوں پر فوراً پڑ سکتا ہے جس سے ہارٹ اٹیک اور برین ہیمریج جیسے امراض واقع ہو سکتے ہیں۔
شوگر کی موجودگی کی وجہ سے انرجی ڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال موٹاپا، شوگر، جگر اور فالج جیسے امراض بننے کا موجد بنتا ہے ۔ چینی و مٹھاس انسانی خون میں شامل ہو کر خون کے خلیوں کو بے حد نقصان پہنچانےکا باعث بنتی ہیں ۔ برطانیہ یونیورسٹی ہنگور کی ریسریچ رپورٹ میں چینی (شوگر) کا برین کے طلب کے حصے سے مضبوط تعلق قرار دیا ہے اس لیے افراد میٹھے کا بہت زیادہ استعمال کرتے جبکہ انرجی و کولڈ ڈرنکس میں شامل بلبلے انسانی دماغ پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسی خواتین جو ریگولر طور پر کولڈ ڈرنکس لیتی ہیں ان میں بریسٹ کینسر کا خطرہ شدید لاحق ہوتا ہے ۔
ان تمام مضر اثرات کو جاننے کے بعد ہماری ذمہ داری ہے کہ تمام کولڈ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا بائی کاٹ کریں۔موسم گرما کی شدت سے بچنے کیلئے دہی یا گھریلو طرز پر تیار کردہ لیموں پانی، لسی،تازہ اور فریش جوسز کا استعمال کریں۔