وفاقی حکومت کا نئے سرکاری ملازمین کیلئے پرانا پنشن نظام ختم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نےاصولی فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ برس سے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن کے موجودہ نظام کی جگہ نیا نظام متعارف کرایا جائے گا، اور پنشن کی نئی کنٹربیوٹری فنڈ سکیم کا اطلاق نئے بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین پرہی ہوگا۔

اسلام آباد: تفصیل کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے دی جانے والی تجاویز کے مطابق موجودہ نیا پیشن نظام متعارف کرانے پر سرکاری ملازمین متاثر نہیں ہونگے، نئے نظام پر پے اینڈ پنشن کمیشن کام کررہا ہے، کمیشن کی نئی سربراہ سابق وفاقی سیکریٹری نرگس سیٹھی کو تعینات کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ موجودہ سرکاری ملازمین کیلئے پے اینڈ پنشن کا موجودہ نظام جاری رہے گا اور موجودہ سرکاری ملازمین متاثر نہیں ہونگے تاہم نئے بھرتی ہونیوالے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن فنڈز تشکیل دیا جائے گا یہ فنڈ کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ کہلائے گا۔

سینئر صحافی کا نئے پیشن نظام کے بارے میں کہنا ہے کہ اس فنڈ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے بھی رقم شامل کی جائے گی، کنٹریبویٹری پنشن فنڈ میں حکومت کی جانب سے بھی سیڈ منی رکھی جائے گی، جبکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے دو طرح کی پنشن کیلئےکنٹربیوشن میکنزم ہونگے۔

ایک کنٹربیوشن براہ راست پنشن فنڈ میں جائے گی، جبکہ دوسری کنٹری بیوشن سرکاری ملازمین کے اپنے اکائونٹ میں جمع ہوگی جو ریٹائرمنٹ کے وقت اس کو پنشن کی مد میں جاری کر دی جائیگی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پنشن فنڈ کی رقم سے سرمایہ کاری بھی کی جائے گی تاکہ اس میں اضافہ ہو اور پنشن کا براہ راست بوجھ قومی خزانے پر ختم کیا جائے، ذرائع نے کہا کہ وفاقی سرکاری ملازمین کی پنشن کا بل 470ارب روپے ہے اور تنخواہوں سمیت 1100ارب روپے کا قومی خزانے پر بوجھ ہے۔

سورس:https://newstimeurdu.com