ڈالر اور سونا دونوں ہی مہنگے ہو گئے – اب عوام کی کمر ٹوٹنے والی ہے؟

ڈالر اور سونا کتنے مہنگے ہو گئے – اب عوام کی کمر ٹوٹنے والی ہے؟

ڈالر کی قیمت میں ایک ہی دن میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا جس کے مطابق ڈالر کی قیمت انٹر بینک مارکیٹ میں 124 روپے سے بڑھ کر 137 روپے ہو گئی۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا یہ طوفان تھمنے کی بجائے مزید بڑھنے کی توقع ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ساتھ سونے کی قیمت میں بھی ہوش ربا اضافہ ہو گیا ہے جس کے مطابق اس قیمت میں سترہ سو روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے اس اضافے کے مطابق صرافہ بازار میں سونے کی قیمت پانچ سال میں بلندترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
مزید براں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں نو سو ارب روپے کا اضافہ بھی ہوگیا ہے– اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک میں مہنگائی بڑھنے کا بھی شدید امکان ہے۔
ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں اس قدر اضافے سے عوام پر مہنگائی کا پہاڑ ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ عوام جائیں تو کہاں جائیں ؟ لوگوں کے پاس ڈگریاں بھی موجود ہیں لیکن ان کو اپنے مطابق نوکریاں نہیں مل رہی ہیں۔ ایسی صورت میں کئی ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آتے ہیں کہ لوگ خود کشی کر لیتے ہیں یا پھر خود کو اور اپنے بچوں کو بھی قتل کردیتے ہیں کیوں کہ وہ ان کی بنیاد ی ضروریات پوری کرنے کی سکت نہیں رکھ پاتے۔
اس کے برعکس جو لوگ اپنی جان نہیں لے پاتے وہ چوری اور ڈاکہ زنی کو پیشہ بنا کر اپنا گزارا کرتے ہیں۔ جرم کی وارداتوں کے اکثرسر انجام ہونے سے علاقہ مکین میں خوف وہراس پھیلا رہتا ہے اور معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ سب ہمارے معاشرے میں عدم توازن کی بدترین مثالیں ہیں جہاں لوگ اپنے دکھوں کو دور کرنے کے لئے یا تو موت کو گلے لگا رہے ہیں ، خاندان کے خاندان ختم ہورہے ہیں یا پھر دوسروں کی عمر بھر کی جمع پونجی لوٹ کھسوٹ کر اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔
آخر کب تک ایسا چلتے رہے گا۔ نئی حکومت کے استحکام کے لئے یہ اشد ضروری ہے کہ ملک سے مہنگائی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔ میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے بھی مناسب اور مستند اقدام کئے جائیں۔ نئی حکومت سے عوام کو تاحال بہت سی امیدیں ہیں کیوں کہ خان صاحب نے جس اپنائیت سے قوم سے خطاب میں کہا کہ” آپ نے گھبرانا نہیں ہے” قوم انہی الفاظ کی بنیاد پر خان صاحب سے ڈھیروں توقعات لگائے بیٹھی ہے۔ نئے پاکستان کے دعوے تو بہت کئے گئے ہیں لیکن ابھی بھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان دعووں میں کس حد تک سچائی ہے اور کس حد تک کھوکھلا پن۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ سادگی کے اصولوں کو اپنا کر ، گورنر ہاؤسز کو عوام کے لئے کھول کر اورکرپشن کرنے والوں کا احتساب شروع کر کے خان صاحب نے اپنی کئے ہوئے بہت سے دعووں میں سے چند کو پورا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ باقی کے لئے ہمیں انتظار رہے گا۔