پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، 100انڈیکس1300 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہو گیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید مندی کا شکار، 100انڈیکس میں کتنے پوائنٹس کی کمی ہو گی۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اس کاروباری ہفتے کے پہلے دن ہی شدید مندی کا رجحان رہا اور ملک کے سرمایہ کار غیر یقینی اور پریشانی کی صورتحال کا شکار ہیں جس کی وجہ سے انڈیکس میں کمی دیکھنے میں آئی۔پیر کے روز کاروبار کا آغاز پہلے سیشن میں ایک سو انڈیکس سے ہوا اور انتالیس ہزار کی سطح تک پہنچ گیا۔مگر اس کے بعد سے 100انڈیکس میں کمی واقع ہوتی گئی اور انڈیکس تیرہ سو پوائنٹس کی کمی کے ساتھ سینتیس ہزار کی سطح پر آگیا جس کے باعث مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں پانچ سو ارب کی کمی آگئی۔کاروبار کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس تیرہ سو بیاسی پوائنٹس کی کمی کے ساتھ سینتیس ہزار آٹھ سو اٹھانوے پوائنٹس پر بند ہوا اور اتنی کمی کے ساتھ کاروبار کے اختتام پر پاکستانی سرمایہ کاروں کے کروڑوں روپے ڈوب گئے۔
مارکیٹ میں شدید مندی کی اس صورتحال پر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے کیے گئے تجزیے پر مارکیٹ تشویش کے عالم میں ہے اور ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف کے اہداف کو مکمل کرنا ملک میں مہنگائی کا باعث ہوگا اور اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا یہ رجحان ایک غیر مستحکم صورتحال کی وجہ بن سکتا ہے۔
یاد رہے گذشتہ دنوں روز وزیراعظم عمران خان نے پریس کانفرنس کی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو بارہ سو ارب کا گردشی قرضہ اور بڑھ جائے گا۔اس لیے عمران خان نے آئی ایم ایف سے بھی مدد لینے کی جانب اشارہ کیا۔
اسٹاک ایکسچینج میں اس کمی کے باعث اوپن مارکیٹ میں روپے کی قیمت میں بھی کمی آگئی اور ڈالر کی قیمت بڑھ کر129 تک چلی گئی۔نئی حکومت کی جانب سے معیشت کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی سامنے نہ آنے کی وجہ سے اور ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے باعث پیر کے روز فروخت پر دباؤ بڑھ گیا جس کی وجہ سے سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے کو ملی۔اس وجہ سے انٹر بینک میں بھی ڈالر کی قیمت میں ایک روپے کا اضافہ ہو گیا اور یورو میں پینتیس پیسے کا اضافہ ہوا۔
اس صورتحال میں پاکستان سٹاک ایکسچینج بروکرز ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی اس ڈوبتی صنعت کو بچانے کے لیے فوری طور پر ملاقات کریں۔
اس غیر یقینی صورتحال کے باعث بہت سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکالنا بہتر سمجھا اور مارکیٹ کے دیگر سرمایہ کاروں میں بھی تشویش والی صورتحال نظر آئی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید حکومت آئی ایم ایف پروگرام سے پہلے ضمنی انتخابات کے انتظار میں ہے جو کہ اکتوبر کے آخر میں ہو رہے ہیں۔اس لیے حکومت کو یہ خدشہ بھی ہے کہ آنے والے کچھ دنوں میں روپے کی قیمت میں مزید کمی آئے گی اس لیے سرمایہ کار مارکیٹ میں فی الحال انویسٹ کرنے سے دور ہی رہیں تاکہ وہ کسی بڑے نقصان سے بچ سکیں۔اور ضمنی انتخابات کے بعد حکومت نئی پالیسیز کا اعلان کرے گی جس سے سٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلے کی طرح کام کرنے لگے گا۔