حیوانات پر جدید تحقیق کے مطابق کووں کے ہاں باقاعدہ عدالتی نظام ہے

حیوانات پر جدید تحقیق کے مطابق کووں کے ہاں باقاعدہ عدالتی نظام ہے اور یہ عدالت کسی کو فرد یا جماعت پر ظلم کرنے نہیں دیتی۔ کووں کے نظام عدالت میں ہر جرم کی مخصوص سزا ہے جیسے:
٭کووے کے بچے(چوزے) سے کھانا چھیننے کی سزا یہ ہے کہ کووں کا ایک گروپ اکھٹا ہو کر کھانا چھیننے والے کے پَر نوچتے ہیں یہاں تک کہ وہ بھی بچے کی طرح اڑ نہیں پاتا گویا ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان کا اسلامی قانون نافذ ہے!!
٭اسی طرح گھونسلا خراب کرنے اس کو گرانے یا اس پر قبضہ کرنے کی سزا یہ ہے کہ کووں کی ایک جماعت مجرم کو وہ گھونسلا دوبارہ بنانے پر مجبور کرتی ہے یعنی بالکل اسلامی قانون ہے!!

٭ غلط کاری یا ریپ کی سزا یہ ہے کہ کووں کی ایک جماعت مجرم کو چونج مار مار کر قتل کردیتی ہے!!
ماہرین کے مطابق کووں کی عدالت لہلہاتے کھیتوں اور کھلے میدانوں میں لگتی ہے یعنی کسی بند کمرے میں نہیں، مقررہ وقت پر کووے اکھٹے ہو جاتے ہیں
اور جج بیٹھ جاتے ہیں ملزم کووے کو لایا جاتا ہے عدالتی کاروائی شروع ہوتی ہے تو ملزم کوا سر جھکائے پر پھیلائے انتہائی سیکورٹی میں عدالت کے سامنے پیش ہوتا ہے.
سورس:شوشل میڈیا