خود اعتمادی کا حصول کیسے ممکن ہے؟

اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کریں اس کا حصول کیسے ممکن ہے؟

خود اعتمادی اور عزت نفس جسے انگریزی میں سیلف کانفیڈینس کہتے ہیں ، ایک سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔خود اعتمادی اور عزت نفس ایسی حالت کا نام ہے جس میں ایک شخص اعتماد سے بھرپور کیفیت میں ہوتا ہے۔خود اعتمادی ایک نفسیات سے جُڑی حس کا نام ہے اور یہ حس انسان کے حالات پر انحصار کرتی ہے۔انسان کے حالات اور اسکی حسیات میں ایک گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ہماری حسیات ہمارے رویے پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں اور اسی طرح ہمارا رویہ بھی حالات کے مطابق بدلتا ہے۔خود اعتمادی کی ضد احساس کمتری ہے۔ایک شخص جو کہ خود اعتمادی سے بھر پور ہے اس میں مندرجہ ذیل خصوصیات موجود ہونگی
فیصلہ کرنے کی صلاحیت
اس فیصلے پر عمل کرنے کی صلاحیت
اور قوت
خود اعتماد انسان حالات کے مطابق فیصلہ کرنے اور پھر اس فیصلے پر عمل پیرا ہونے کی صلاحیت اور طاقت رکھتا ہے۔اس کا کیا گیا فیصلہ ٹھیک ہو یا غلط،لیکن ایک خود اعتماد شخص اپنے ہر کیے گئے فیصلے سے جڑے رہنے کی ہمت اور طاقت رکھتا ہے۔خود اعتمادی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اپنے متعلق کیا محسوس کرتے ہیں اور ہم اپنی سابقہ کارکردگی کے لحاظ سے اپنی اہمیت اور قدرومنزلت کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اس طرح سے ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے اپنے آپ سے اس کام کو بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دینے کی توقع رکھتے ہیں اور اپنی اس توقع پر پورا اترنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔لیکن اگر ہم اپنے طور پر پوری کوشش نہ کر سکیں تو ہماری نظروں میں ہماری اہمیت اور قدر کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اصل میں انسان اپنے اردگرد ماحول اور معاشرے سے بہت متاثر ہوتا ہے اور معاشرہ چونکہ ہماری بہترین کارکردگی کو ہی قبول کرتا ہے اور آگے بڑھنے کے لیے جیت اور بہترین کارکردگی پر زور دیتا ہے ،اس لیے جب ہم اپنی کسی کوشش میں ناکام ہو جاتے ہیں یا ہم اپنی سی پوری کوشش نہیں کر پاتے تو ہم اپنے آپ کو معاشرے کے مطابق پرکھنا شروع کر دیتے ہیں۔اور اپنی نظروں میں بھی اپنی قدروقیمت کھو دیتے ہیں۔
یہ سب ایک فطری عمل ہے کہ ہم اپنی کوشش اور کارکردگی کے متعلق سوچنا شروع کر دیتے ہیں مگر ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی غلطیوں سمیت اپنی قدر کرنا سیکھیں۔ہمیں اپنی غلطیوں سےبھی لطف اندوز ہونا چاہیئے۔ایک باشعور اور خود اعتماد انسان اپنی ہر کمی کے باوجود اپنی قدر کرتا ہے۔بطور انسان ہم یہ سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں ہماری موجودگی کی ایک اچھی وجہ بنی رہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ معاشرے کی نظر میں ہماری اہمیت اور عزت قائم رہے اور معاشرے کی طرف سے ملنے والی اہمیت کو ہی ہم اپنی اصل اہمیت سمجھتے ہیں اور اس طرح اس غلط سوچ پر اپنا بہت سا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ پر بالکل بہترین شخص ہیں کیونکہ اس دنیا میں کوئی بھی انسان کاملیت کا حامل نہیں سوائے ہمارے آخری نبی حضرت محمد ﷺکے۔
اس لئے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی اہمیت خود پہچانیں تا کہ ہم ایک خود اعتماد زندگی گزار سکیں۔